باسہولت چھپنے والا متن

عمارت

سندھ اسمبلی کی دو منزلہ عمارت وزیراعلی کے کیمپ آفس اور جن دیگر دفاتر پر مشتمل ہے ان میں اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر ، وزراء اور اپوزیشن حزب اختلاف کے رہنما کے دفتر سیکریٹریٹ ، لاءڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ آف سندھ کے علاوہ ایک لائبریری بھی ہےـ

اسمبلی کی عمارت کا سنگ بنیاد اس وقت کے گورنر سر لانسیلوٹ گراہم نے 11 مارچ 1940ء کو رکھاـ 4 مارچ 1942ء میں عمارت کی تعمیر کا آغاز اس وقت کے گورنر سرہگ ڈاؤ نے کیاـ یہ عمارت دوسال کے عرصے میں مکمل ہوئی ـ

Sindh Assembly Buildingاس کے 24 سال بعد یعنی 1971ء میں ایک مرتبہ پھر سے سندھ اسمبلی کی عمارت کے زیر استعمال ہےـ اب عمارت کے مرکزی حصے میں موجود اسمبلی ہال میں 168 ممبران کے بیٹھنے کی گنجائش ہے-

Sindh Assembly Hall

سابقہ اسمبلیاں

1980ء میں بمبئی کی قانون ساز اسمبلی میں پہلی بار سندھ کو نمائندگی ملی ـ اس وقت سندھ کے صرف چار نمائندے تھے ـ بالآخر کافی جدوجہد کے بعد ، قائداعظم محمد علی جناح کی رہنمائی میں بمبئ پریزیڈنسی سے سندھ کو خود مختاری حاصل ہوگئی ـ اس اقدام کو یقینی بنانے میں ایچ – ایچ – سرآغاخان ، جی-ایم-سید ، سر عبدالقیوم خان اور دیگر مسلمان رہنماؤوں نے اہم کردار ادا کیا اور بالآخر یکم اپریل 1936ء کو سندھ کو ایک خودمختار ریاست کا درجہ دے دیا گیاـ

ایک نئے خود مختار صوبے کی حیثیت سے سندھ کی اپنی مجلس قانون ساز تشکیل دی گئی ـ جس کے منتخب نمائندوں کا تعلق معاشرے کے اجتماعی اور اقلیتی گروہوں سے تھاـ یکم اپریل 1936ء کو برٹش گورنمنٹ نے سرلانسیلوٹ کو سندھ کا پہلا گورنر مقرر کیا جو کونسل کے سربراہ تھے 25 ممبران پر مشتمل اس کونسل میں بمبئی کونسل کے دو مشیر بھی تھے جو 1937ء تک سندھ کے انتظامی و انصرامی معاملات کو چلاتے رہےـ

7 فروری 1937ء کو سندھ کی مجلس قانون ساز کے لیے پہلے انتخابات کرائے گئےـ اس وقت سندھ کے گورنر سرلانسیلوٹ گراہم تھےـ جنھوں نے سندھ کی مجلس قانون ساز کے 60 ممبران کے انتخاب کے لیے یہ انتخابات منعقد کروائےـ نشستوں کی تقسیم کچھ یوں تھی: عام نشستوں کی تعداد 18 ، محمدن نشتوں کی تعداد 33 ، 2 نشستیں یورپی باشندوں، 2 نشستیں تجارت ، صنعت و حرفت ، کان کن اور باغبانی، 2 نشستیں زمینداروں، محنت کشوں کے لیے ایک نشت اور ایک نشت خواتین کی نمائندگی ( محمدن ) کے لیے تھی- 15 اپریل 1937ء کو سندھ کی پہلی قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس گورنر نے بلایاـ 27 اپریل 1937ء کو سندھ چیف کورٹ کراچی ( ہائی کورٹ سندھ کی موجودہ عمارت ) کے اسمبلی ہال میں دیوان بہادر ہیرانندکھیم چند کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا، جو کہ مسلسل چار دن تک جاری رہا ، اس میں اسمبلی کے اسپیکر کی حیثیت سے دیوان بہادر بھوج سنگھ کو اور خان بہادراللہ بخش گبول کو بطور ڈپٹی چئیرمین منتخب کیا گیاـ

مملکت خداداد پاکستان بننے کے بعد سندھ کی مجلس قانون ساز کا اجلاس ہوا جو 4 فروری 1948ء کو شروع ہو کر 18 فروری 1948ء کو اختتام پزیر ہواـ اس اجلاس میں کل 38 ممبران نے پاکستان کی نئی آزاد ریاست سے وفاداری کا حلف اٹھایاـ